google-site-verification=d2TPImXScTnzQz2tNzNTRuUz_0IRbX6yxt_IACVbuTw
کیا فنِ کمپیوٹر فن خطاطی کو ختم کر دے گا؟ کیا فنِ کمپیوٹر فن خطاطی کو ختم کر دے گا؟ Calligrapher : Ali Shirazi

فنِ خطاطی سے فنِ کمپیوٹر تک

فنِ خطاطی سے فنِ کمپیوٹر تک


By, Rehana Bastiwala, BBC Urdu | Updated: January 10, 2020, 02:15 IST


ممبئی کی ایک کمپنی ایکسیس سافٹ میڈیانے ایک ایسا سافٹ ویئرتیار کیا ہے جس سے نہ صرف قرآن شریف کی خطاطی میں کمپیوٹر پر ہی کشش لائی جا سکتی ہے بلکہ قرآن کو آپ اپنی مرضی کے ترجمے کے ساتھ بھی پرنٹ کرسکتے ہے۔

یہ پروگرام ایکسیس سافٹ میڈیا نے تیار کیا ہے۔ اس کمپنی کے مالک سید منظر زیدی نے اردو کے پہلے کمپیوٹر سافٹ ویئر ’اِن پیچ‘  فونٹ کے علاوہ لاہوری نستعلیق اور دیگر چالیس غیر نستعلیق خطوں کو بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایک کاتب ہی تحریر میں کشش لا سکتا ہے لیکن اب انہوں نے جو سافٹ ویئر بنایا ہے اس سے کوئی بھی شخص حروف کی خطاطی کا اسلوب تبدیل کر سکتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ پرورگام مدارس اور قرآن کی اشاعت کے اداروں کے لیے مفید ہوگا۔ سید منظر کے مطابق انہوں نے اس کی قیمت بھی کم رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ اس پروگرام کی ٹیسٹنگ جاری ہے اور اس کو مارچ کے پہلے ہفتے میں لانچ کیا جا رہا ہے۔

ایکسیس سافٹ میڈیا کو اس پروگرام کو بنانے میں ۵؍ سال سے بھی زیادہ عرصہ لگا ہے۔

سید منظر کے مطابق انھوں نے مالیگاؤں کے خطاط و آرٹسٹ عارف انجم انصاری کے ساتھ مل کر تقریباً پانچ برسوں کی انتھک محنت سے قرآن کریم کی ڈیجیٹل خطاطی اور اردو رسم الخط نستعلیق کے فونٹ علی نستعلیق عارف نستعلیق کے علاوہ دیگر نسخ فونٹ بھی تیار کرلیے ہیں۔جو کہ اردو عربی پبلشنگ شعبے کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔

تو کیا فن کمپیوٹر نے فن خطاطی کو آخر مات دے دی ہے؟ پہلے اخبارات، پھر کتابیں کمپیوٹر پر شائع ہونے لگیں اور اب قرآن شریف کا ہند و پاک نسخ کشش کے ساتھ ورڈ کی فائل میں قدم رکھنا اس خدشے کو جنم دے رہا ہے کہ اب کاتبین کو اپنی قلم اور سیاہی کا ساتھ چھوڑنا ہو گا۔ یہ سوال اس وقت سے درپیش ہے جب سے کمپیوٹر نے ورڈ کی فائل بنائی اور پھر ان پیچ وجود میں آیا۔ دنیا کی ہر زبان کے اخبارات میں قلم اور سیاہی کا دور تھا۔ کاتب خبروں کو لکھتے آخری وقت میں خبروں میں تبدیلی ایک ہنگامہ سا رہتا تھا اور کاتب صحافیوں سے بالاتر ہوتے تھے کیونکہ اگر وہ لکھنے سے انکار کرتے تو خبریں شائع کیسے ہوتیں۔ لیکن جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے کمپیوٹر نے کاتبوں کی بالا دستی ختم کر دی۔ وہ کام جو گھنٹوں میں ہوتا تھا وہ منٹوں میں ہونے لگا۔ اخبارات کے بعد جب کتابیں بھی کمپیوٹر پر لکھی جانے لگیں تو کاتبوں کو اپنی روزی روٹی خطرے میں نظر آئی جس کے بعد انہوں نے قران لکھنے کا کام شروع کر دیا۔ وہ ایسی کئی دعاؤں کی کتابیں بھی لکھنے لگے جس میں قرانی آیات شامل ہوتی ہیں۔

ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں ہند پاک نسخ کافی مقبول ہے اور اسی خط میں قرآن شریف لکھا جاتا رہا ہے۔ عام قاری کے لیے تیرہ سطری قرآن اور حافظ قرآن اور دیگر عالم کے لیے پندرہ یا اٹھارہ سطری قران لکھا جاتا ہے۔

عام طور پر ایک قرآن لکھنے میں کم سے کم ڈھائی سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور اسے لکھنے کا ہدیہ پانچ سے پندرہ لاکھ روپے تک دیا جاتا ہے۔ ایک کاتب غیاث الدین مظاہری جو پہلے اخبار میں کتابت کیا کرتے تھے اب قرآن کی کتابت میں مشغول ہیں۔ انہوں نے تیرہ سطری قرآن مکمل کر لیا ہے اور اب پندرہ اور اٹھارہ سطری قرآن کی کتابت کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انہیں قرآن کی کتابت میں تین سال کا عرصہ لگا کیونکہ ایک اچھے سے اچھا مشاق کاتب بھی روزانہ ایک یا ڈیڑھ صفحہ سے زیادہ نہیں لکھ سکتا ہے۔ اس لیے اگر یہ سافٹ ویئر بازار میں آگیا تو ان جیسے کئی کاتبوں کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ کوئی بھی کمپنی لاکھوں روپیہ دینے کے بجائے چند ہزار کا سافٹ ویئر خرید کر قرآن شائع کرا لے گی۔

مشہور کاتب غیاث الدین کہتے ہیں کہ خطاطی کا فن کمپیوٹر کے دماغ میں نہیں بلکہ ایک ماہر مشاق کاتب کے ذہن اور اس کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کاتبوں نے اپنے خطاطی کے ہنر کا استعمال قرآن کی کتابت میں بھی کیا۔ الفی قرآن یعنی قرآن کا ہر صفحہ الف سے شروع ہوتا ہے جسے چند برس قبل کاتب نورالدین آزاد نے ترتیب دیا اور کاتب باقی بن جان محمد نے لکھا۔ غیاث کہتے ہیں کہ فن خطاطی کے نادر و نایاب نسخے حیدر آباد کے سالار جنگ میوزیم میں موجود ہیں جن کا مقابلہ کوئی کمپیوٹر نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن سید منظر کمپیوٹر کے دفاع میں کہتے ہیں کہ آج کے اس دور میں لوگ کم خرچ اور جلدی سب کچھ پانا چاہتے ہیں اور کمپیوٹر اس کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔

فن خطاطی سے فن کمپیوٹر تک کا یہ سفر جب شروع ہوا تو کسی کو یقین نہیں تھا کہ قلم کا جادو کبھی ختم ہوگا۔ اخبارات، کتابوں کے علاوہ تغرے اتنے خوشنما انداز میں لکھے جاتے تھے کہ کاتبوں کی مشاقی پر عقل حیران رہ جاتی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان میں کتابت کے کئی استاد اس فن کے ماہر رہ چکے ہیں۔ ہندوستان میں فیض مجدد کا لاہوری خط دنیا بھر میں مقبول تھا۔ تقریباً چالیس خط رائج ہو چکے ہیں جن میں اسلوب، اسیر، نستعلیق، محقق، خط رِکاں ان میں سے چند ہیں۔اردو اخبارات میں ایک دور میں کاتبوں کا طوطی بولتا تھا۔ درجنوں کاتب اخبار کے دفتر میں قلم اور سیاہی کے ساتھ پورا پورا اخبار لکھ ڈالتے۔

کتابت فن کے ساتھ ہی روزی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ لیکن کمپیوٹر کی آمد نے سب کچھ رفتہ رفتہ ختم کر دیا۔مشہور کاتب خلیق الاسدی کہتے ہیں کہ ان کی خطاطی کے فن کے چاہنے والے اب کہاں بچے ہیں اس لیے انہیں اب روزی کے لیے ہاتھ پیر مارنا پڑ رہا ہے۔ کمپیوٹر نے کتابت کا ذریعہ چھین لیا لیکن خطاطی کا ہنر نہیں چھین سکتا اور فن زندہ رہے گا وہ کبھی نہیں مر سکتا۔ کاتب غیاث بھی انہی کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فن خطاطی دنیا سے کبھی ختم نہیں ہو گا۔

اگر یہ سافٹ ویئر بازار میں آگیا تو ان جیسے کئی کاتبوں کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں کیونکہ کوئی بھی کمپنی لاکھوں روپیہ دینے کے بجائے چند ہزار کا سافٹ ویئر خرید کر قرآن شائع کرا لے گی۔

غیاث الدین مظاہری، کاتب
Manzar Quranic Naskh80%
Ali Nastaliq90%
Arif Nastaliq75%
Nawayathi Naskh
000